اسکول کی چھت گری، یا ہمارا نظام ناکام ہوا؟
ایک خصوصی اداریہ | پاکستان میں تعلیمی اداروں کی حفاظت، انتظامی غفلت اور جواب دہی کا بحران
غیر محفوظ تعلیمی عمارتیں صرف تعمیراتی مسئلہ نہیں بلکہ انتظامی ذمہ داری، نگرانی اور بچوں کے تحفظ کا معاملہ بھی ہیں۔ تصویر علامتی ہے۔
کسی اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ محض اینٹوں، سیمنٹ اور سریے کی ناکامی نہیں ہوتا۔ یہ اس نظام پر بھی سوال اٹھاتا ہے جسے بچوں کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا۔
جب ایک بچہ صبح کتابیں اٹھائے گھر سے نکلتا ہے تو والدین اسے تعلیم حاصل کرنے بھیجتے ہیں، کسی خطرناک عمارت میں اپنی جان آزمانے نہیں۔ اگر وہ عمارت غیر محفوظ ہے تو سوال صرف یہ نہیں کہ چھت کیوں گری، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی حالت بروقت کیوں نہیں جانچی گئی، خطرے کی اطلاع کس کو تھی، کس نے کارروائی کی اور کس نے نہیں کی؟
تیس چالیس سال کی ملازمت، مگر نظام وہیں کا وہیں!
ذرا تصور کیجیے کہ ایک شخص کسی ادارے میں تیس یا چالیس سال ملازمت کرتا ہے۔ اس دوران تنخواہیں لیتا ہے، ترقیاں پاتا ہے، اختیارات استعمال کرتا ہے، اجلاسوں میں شریک ہوتا ہے، فیصلوں پر دستخط کرتا ہے اور بالآخر عزت و احترام کے ساتھ ریٹائر ہو جاتا ہے۔
لیکن اگر اس کے آنے سے پہلے بھی نظام خراب تھا، اس کے دور میں بھی خراب رہا اور اس کے جانے کے بعد بھی وہی خامیاں موجود ہیں تو اس طویل ملازمت کا ادارے کو کیا فائدہ ہوا؟
ملازمت کی مدت کامیابی کا ثبوت نہیں۔ اصل کامیابی وہ مثبت تبدیلی ہے جو انسان اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے۔
افسوس اس تجربے پر جو کسی مسئلے کا حل نہ دے۔ افسوس اس اختیار پر جو کسی خطرے کو روک نہ سکے۔ اور افسوس اس قیادت پر جو صرف وقت گزارنے کو خدمت سمجھتی ہو۔
تجربہ یا ایک ہی غلطی کی چالیس سالہ تکرار؟
ہر طویل ملازمت تجربہ نہیں کہلاتی۔
اگر ایک افسر چالیس سال تک ایک ہی غیر مؤثر طریقہ اختیار کرتا رہا تو ممکن ہے اس کے پاس چالیس سال کا تجربہ نہ ہو بلکہ ایک ہی سال کا تجربہ ہو جسے اس نے چالیس مرتبہ دہرایا ہو۔
تجربہ تب قیمتی بنتا ہے جب اس سے غلطیاں کم ہوں، خطرات کی نشاندہی ہو، نئے طریقے متعارف ہوں، ملازمین تربیت حاصل کریں اور ادارہ پہلے سے زیادہ محفوظ اور مؤثر ہو جائے۔
ایک اچھا افسر اپنے جانشین کے لیے صرف کرسی اور فائلیں نہیں چھوڑتا بلکہ بہتر نظام، واضح ذمہ داریاں، جدید طریقۂ کار اور قابلِ عمل پالیسیاں چھوڑتا ہے۔
آخر کہاں گئے ہمارے SOPs؟
کیا اسکولوں کی عمارتوں کا باقاعدہ تکنیکی معائنہ ہوتا ہے؟ کیا چھتوں، دیواروں، ستونوں اور بنیادوں کی مضبوطی جانچنے کا کوئی مستند ریکارڈ موجود ہے؟
اگر خطرہ سامنے آ جائے تو عمارت خالی کروانے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ مرمت کی منظوری کون دیتا ہے؟ فنڈز کون جاری کرتا ہے؟ اور اس کام کی تکمیل کون تصدیق کرتا ہے؟
SOPs یعنی معیاری عملی طریقۂ کار صرف کاغذی ہدایات نہیں بلکہ ذمہ داریوں اور اقدامات کا واضح نظام ہوتے ہیں۔
انہیں وقت، ٹیکنالوجی، نئے خطرات اور ماضی کے واقعات سے حاصل ہونے والے اسباق کے مطابق مسلسل بہتر بنانا ضروری ہے۔
جو SOP کسی حادثے سے سبق نہ سیکھے، وہ حفاظتی نظام نہیں بلکہ محض ایک رسمی دستاویز بن کر رہ جاتا ہے۔
ہر حادثے کے بعد وہی پرانا ڈرامہ
حادثہ ہوتا ہے، افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے، کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے اور بعض اوقات چند ملازمین معطل کر دیے جاتے ہیں۔
مگر اصل سوال یہ ہے کہ تحقیقات کے بعد نظام میں کیا تبدیلی آئی؟
کیا غیر محفوظ عمارتوں کی نئی فہرست تیار ہوئی؟ کیا دیگر اسکولوں کی جانچ ہوئی؟ کیا مرمت کے لیے بجٹ مختص ہوا؟ کیا ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا؟ کیا سفارشات پر عمل درآمد کی رپورٹ عوام کے سامنے آئی؟
اگر ان سوالات کے جواب موجود نہیں تو ہم مسئلے کا حل نہیں نکال رہے بلکہ اگلے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔
ذمہ داری صرف استاد یا ہیڈماسٹر پر کیوں؟
اگر کسی اسکول کی عمارت غیر محفوظ ہو تو ہر متعلقہ سطح پر ذمہ داری کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
اس میں تعمیراتی ٹھیکیدار، متعلقہ انجینئر، بلڈنگ انسپکٹر، محکمۂ تعلیم، مرمت اور بجٹ کی منظوری دینے والے افسران اور متعلقہ انتظامی حکام شامل ہو سکتے ہیں۔
تاہم کسی کو قصوروار قرار دینے سے پہلے اس کے اختیار، دستیاب معلومات، قانونی فرائض اور اقدامات کی غیر جانب دارانہ تحقیق ضروری ہے۔
جس کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، اس کے پاس جواب دینے کی ذمہ داری بھی ہونی چاہیے۔
اصلاح کیسے ممکن ہے؟
1۔ لازمی حفاظتی سرٹیفکیٹ
ہر اسکول کی عمارت کا مستند انجینئر سے معائنہ ہو، اس کی مدت مقرر ہو اور غیر محفوظ عمارت میں تدریس روکنے کا واضح طریقہ موجود ہو۔
2۔ ڈیجیٹل معائنہ اور ریکارڈ
معائنوں، تصاویر، شکایات، مرمت کے احکامات اور تکمیل کی رپورٹس کو قابلِ تصدیق ڈیجیٹل ریکارڈ میں محفوظ کیا جائے۔
3۔ خطرے پر فوری کارروائی
عمارت خطرناک قرار پانے کی صورت میں بچوں کو محفوظ متبادل جگہ منتقل کیا جائے۔ مرمت مکمل ہونے تک ان کی تعلیم کا تسلسل بھی برقرار رکھا جائے۔
4۔ جواب دہی اور مسلسل بہتری
ہر حادثے اور سنگین حفاظتی خامی کے بعد آزادانہ جائزہ لیا جائے، سفارشات کی تکمیل کے لیے مدت مقرر ہو اور نتائج عوامی سطح پر دستیاب ہوں۔
وقت گزاری کا انجام اگلی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے
آپ اپنی مدتِ ملازمت پوری کر لیتے ہیں۔ الوداعی تقریب ہوتی ہے۔ پھول پیش کیے جاتے ہیں۔ خدمات کو سراہا جاتا ہے۔ پنشن شروع ہو جاتی ہے۔
لیکن جس نظام کو آپ بہتر بنا سکتے تھے اور نہیں بنایا، اس کی خامیوں کی قیمت کبھی کسی غریب کا بچہ، کبھی اس کے والدین اور کبھی پوری آنے والی نسل ادا کرتی ہے۔
آپ کا کچھ نہیں جاتا، مگر کسی گھر کا مستقبل تباہ ہو سکتا ہے۔
آپ ریٹائر ہو جاتے ہیں، لیکن آپ کی چھوڑی ہوئی غفلت ریٹائر نہیں ہوتی۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے ہمیں سمجھنا ہوگا۔ قوموں کا مستقبل صرف نئی عمارتوں اور بڑے منصوبوں سے محفوظ نہیں ہوتا بلکہ ان کی دیکھ بھال، نگرانی اور ذمہ دارانہ انتظام سے محفوظ ہوتا ہے۔
نتیجہ: پہلی صف میں کھڑے ہونے سے پہلے اپنا کردار دیکھیے
ہمیں ہر سرکاری افسر، منتظم اور فیصلہ ساز سے ایک بنیادی سوال پوچھنا چاہیے:
جب آپ نے ذمہ داری سنبھالی تو نظام کی حالت کیا تھی، اور جب آپ نے ذمہ داری چھوڑی تو اسے کتنا بہتر بنا کر گئے؟
اگر جواب صرف ملازمت کے سال، عہدے، میٹنگز، دستخط اور تقریبات ہیں تو یہ خدمت کا مکمل حساب نہیں۔
اصل خدمت وہ ہے جس سے انسانوں کی زندگی محفوظ ہو، اداروں کی کارکردگی بہتر ہو اور آنے والی نسلیں پہلے سے زیادہ محفوظ ماحول میں زندگی گزار سکیں۔
آخر کب تک ہم ایک ہی غلطیاں دہراتے رہیں گے؟ کب تک اصلاح کی جگہ افسوس، احتساب کی جگہ کمیٹیاں اور ذمہ داری کی جگہ بہانے پیش کرتے رہیں گے؟
کسی اسکول کی گری ہوئی چھت دوبارہ تعمیر کی جا سکتی ہے، مگر کسی ماں کی اجڑی ہوئی گود اور کسی بچے کا چھینا ہوا مستقبل واپس نہیں لایا جا سکتا۔
قومیں صرف حادثات سے نہیں گرتیں؛ وہ اس وقت گرتی ہیں جب حادثات سے سبق سیکھنا چھوڑ دیتی ہیں۔
ادارتی وضاحت: یہ مضمون پاکستان میں اسکولوں کی عمارتوں کے تحفظ اور ادارہ جاتی جواب دہی پر ایک عمومی تجزیہ ہے۔ کسی مخصوص واقعے کے اسباب یا افراد کی ذمہ داری کے بارے میں حتمی رائے مستند تحقیق کے بعد ہی قائم کی جا سکتی ہے۔ تمام ضمنی تصاویر نمائشی ہیں۔
#Pakistan #SchoolSafety #EducationReform #Accountability #PublicSafety #SOPs #GoodGovernance #SystemReform #SaveOurChildren #Leadership #InstitutionalReform #PakistanEducation

